نئی دہلی،11؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ا یس انڈیا )سپریم کورٹ نے تمام ہوٹل مالکان اور شراب کے دکانوں کے مالکان کی درخواست کو خارج کر دیا، جنہوں نے نیشنل ہائی ویز اور اسٹیٹ ہائی ویز سے 500میٹر تک شراب کی دکانوں پر پابندی کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں تبدیلی کی اپیل کی تھی۔کورٹ نے کہا ہم نجی عرضیوں پر سماعت نہیں کریں گے ،بلکہ صرف کیرالہ ، اتراکھنڈ، اروناچل پردیش، انڈمان نکوبار، اور چنڈی گڑھ کے معاملے میں داخل عرضی پر سماعت کریں گے۔سپریم کورٹ کو یہ طے کرنا ہے کہ نیشنل ہائی ویز اور اسٹیٹ ہائی ویز سے 500میٹر تک شراب کی دکانوں پر پابندی کے اپنے فیصلے میں تبدیلی کرے یا نہیں؟تمل ناڈوکے کلب، ہوٹل مالکان کے علاوہ کئی عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی۔کچھ ریاستی حکومتوں نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔پچھلی سماعت میں سی جے آئی کھیہر نے کہا تھا کہ سوچئے کہ کسی شخص کی سڑک حادثے میں جان چلی جاتی ہے، تو اس کے خاندان پر کیا گزرتی ہے؟خاص طور پر مرنے والا شخص خاندان کے لیے روزی روٹی کمانے والا اکلوتا ذریعہ ہو۔ مفاد عامہ کی ایک عرضی پنجاب اور تمل ناڈو کے لیے داخل کی گئی تھی، لیکن فیصلہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے دیا گیا ۔ریاستوں کا کہنا ہے کہ ہر ریاست کے الگ الگ حالات ہوتے ہیں،اگر پہاڑی علاقوں میں اس اصول کی پیروی کریں گے ،تو 500میٹر میں تو پہاڑ آ جائے گا، اسی طرح گوا جیسے سمندری علاقوں میں 500میٹر میں سمندر آئے گا،ایسے میں سپریم کورٹ کے ان احکامات پر عمل کرنا مشکل ہو جائے گا۔دراصل گزشتہ سال 15؍دسمبر کو سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ دیا تھا کہ نیشنل ہائی ویز اور اسٹیٹ ہائی ویز سے 500میٹر تک شراب کی دکانیں نہیں ہوں گی،حالانکہ اس میں یہ بھی صاف کیا گیا تھاکہ جن کے پاس لائسنس ہیں وہ ختم ہونے تک یا 31؍مارچ 2017تک جو پہلے ہو، اس طرح کی دکانیں چل سکیں گی،یعنی یکم اپریل 2017سے ہائی وے پر اس طرح کی دکانیں نہیں ہوں گی۔سپریم کورٹ نے اس درخواست پر فیصلہ سنایا تھا جس میں اپیل کی گئی تھی کہ مصنوعات قانون میں ترمیم کرنے کی ہدایت دی جائے جس سے یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ہائی ویز کے کنارے شراب کی فروخت نہ ہو۔اس پر ہر سال سڑک حادثات میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی موت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ قومی اور ریاست ہائی ویز کے کنارے شراب کے ٹھیکے بند کرنے کی ہدایت دے۔